Pakistan: Karachi's landmark Abdullah Shah Ghazi shrine attacked by Taliban suicide bombers

News article, posted 10.20.2010, from Pakistan, in:
Source:
BBC Urdu

[Summary]

Two suspected suicide bombers blew themselves up at Karachi’s Abdullah Shah Ghazi shrine on Thursday, killing at least
ten people and leaving more than 60 injured. The blasts took place about half an hour after sunset in quick succession,
targeting visitors, including women and children.The shrine, near the Clifton beach, is not very far from Bilawal House,
a residence and camp office of President Asif Ali Zardari, where he has been staying for almost a week.At least 12 injured
people admitted to the Jinnah Postgraduate Medical Centre (JPMC) were in critical condition. As of now, The Tahreek-e-Taliban,
a terorist organization situated in Pakistan has claimed responsibility for these attacks. 

Original Language Text: 

کرے کوئی، بھرے کوئی کے مصداق؟

ارمان صابر
 

صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دو دھماکوں اور ان میں دس افراد کی ہلاکت تو کراچی والوں کے لیے حیران کن تھی ہی لیکن اس سے زیادہ قابل حیرت بات حملے کی ذمہ داری کالعدم تظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے قبولیت تھی۔

کیا اِن دھماکوں کے پیچھے طالبان ہیں؟ یہ سوال کراچی کے باسیوں کے ذہنوں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔

اگر ماضی میں جھانکیں تو آٹھ سال قبل مئی سنہ دہ ہزار دو میں کراچی کے شیریٹن ہوٹل کے سامنے فرانسیسی انجینئروں کو لے جانے والی بس پر مبینہ خودکش دھماکہ ہوا تھا جس میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت تحریک طالبان کی داغ بیل نہیں ڈالی گئی تھی لیکن زیادہ شک القاعدہ پر کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد اگلے ماہ یعنی چودہ جون کو امریکی قونصلیٹ کے سامنے ایک گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا جس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی قونصلیٹ کے پاس ایک اور دھماکہ مارچ سنہ دو ہزار چھ میں بھی ہوا تھا اور پولیس کے بقول ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے امریکی اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑی کو بم سے اس وقت تباہ کیا جب وہ امریکی قونصلیٹ کے گیٹ کے قریب پہنچ چکی تھی۔ اس دھماکے میں امریکی اہلکار ڈیوڈ اور ان کے ڈرائیور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کو شک تھا کہ اس حملے میں لشکر جھنگوی العالمی قاری ظفر گروپ ملوث تھا۔ بعد میں ان کے ایک ڈرون حملے میں مارے جانے کی بھی خبر آئی تھی۔

مئی دو ہزار چار میں کراچی کی فاطمہ جناح روڈ پر واقع امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے قریب بھی کار بم دھماکے ہوئے۔